دشمن کے اندیشہ سے بیوی کو قتل کر دینا
سوال
دو آدمیوں پر کا فرحملہ زن ہیں یعنی میاں اور بیوی پر، عورتوں کی اکثر عادت وحالت ہوتی ہے کہ زیادہ چلنے و بھاگنے سے مجبور ہوتی ہیں، مایوس ہو کر اپنے خاوند سے کہتی ہے کہ مجھ کو قتل کر دے تا کہ میں ان کافروں کے شر سے بچوں تمہارے اوپر کسی قسم کا مطالبہ نہیں؟ میاں نے اس بیوی کو قتل کر دیا، اب شریعت کا اس خاوند پر کیا حکم ہے، ”مخلد فی النار“ ہوگا یا نہیں؟
جواب
قتل حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔