الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جائداد کے لئے کسی کو قتل کرنا

سوال

زید نامرد ہے، جس میں مردانگی کی قوت بالکل نہیں ہے، اس کے پاس اچھی خاصی جائداد تھی، بکر کی ایک بہن تھی، جس کا شوہر زندہ ہے، اور اس کے دو بچے ہیں، شوہر اپنی بیوی کے تمام حقوق ادا کرتا رہا لیکن بکر نے زبردستی اپنی بہن کی طلاق لے لی، اور اس خیال سے کہ زید جو نامرد ہے، اس سے اپنی بہن کی شادی کر کے جائداد حاصل کرلے، بہر حال بکر نے اپنی بہن ہندہ کا نکاح زید سے کر دیا، چند ہی دنوں کے بعد زید مرگیا، اب جائداد دستور ہند کے مطابق پوری کی پوری ہندہ کی ہوتی ہے لیکن شریعت چوتھائی کی اجازت دیتی ہے، مقدمات میں ہندہ کی ڈگری مسلسل…

جواب

ہندہ کو قتل کر ڈالنا ہرگز جائز نہیں، بالکل حرام ہے، اس کی سزا جہنم ہے جبکہ قانونی طور پر ہندہ کی ڈگری ہوگئی، تو ہندہ کے مرنے پر کیا وہ جائداد خالد کو مل جائے گی، جبکہ وہی ہندہ کا قاتل ہوگا، جائداد تو کیا ملتی البتہ پھانسی کی سزا ممکن ہے، جو یہاں مل جائے، اور آخرت کی سزا مستقل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو