ظالم کو مارڈالنا
سوال
عمر اور نرنجن کی ایک اراضی کی بناء پر رنجش ہے، زیادتی نرنجن غیر مسلم کی ہے، وہ بڑا فسادی اور غنڈہ ہے، عمر شریف اور دیندار ہے، ایک مرتبہ عمر کو لاٹھیوں سے مارنا شروع کیا اور دوسری مرتبہ گھونسوں اور جوتوں سے زدوکوب کیا، یہ شخص پولیس کا دلال بھی ہے، اس لئے پولیس والے اسکے خلاف کارروائی نہیں کرتے، ایسی حالت میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے نرنجن کو جان سے مروا دینا شرعا جائز ہے یا نہیں، قیامت میں اس کا مواخذہ ہو گا یا نہیں؟
جواب
اپنی جان کی حفاظت لازم ہے، اور اس کیلئے ہر مناسب تدبیر کو اختیار کیا جاسکتا ہے، دوسرے کی جان لینا مقصود نہ ہونا چاہئے، اس کا انجام دنیا اور آخرت میں برا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔