الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زنا، لواطت، مشت زنی منع ہے

سوال

عمر کہتا ہے کہ زنا کاری اور لواطت گناہ ہے مگر مشت زنی جائز ہے زید کہتا ہے کہ مشت زنی بھی حرام ہے عمر کہتا ہے کہ مشت زنی بوقت مجبوری جائز ہے تو اس کی حقیقت کیا ہے؟

جواب

زنا کاری اور لواطت دونوں چیزیں حرام ہیں۔ مشت زنی بھی حرام ہے لیکن اس کی حرمت ان دونوں کی حرمت سے کچھ کم ہے جس پر شہوت کا غلبہ ہوا اور ان دونوں حرکتوں میں سے کسی میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور وہ ان سے محفوظ رہنے کے لئے مشت زنی سے کام لے لے جس سے تسکین شہوت ہو کر زنا کاری ولواطت سے محفوظ ہو جائے تو اس کا معاملہ اہون ہے۔ امید ہے کہ وہ بڑے گناہ کا مرتکب شمار نہ ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو