قاتل کی مدد کرنا
سوال
زید نے عمر کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، جس کا سبب کچھ زمین کا جھگڑا ہے اور اب قتل ہو جانے کے بعد زید پریشان ہیکہ مغفرت کی کیا شکل ہو، تو کیا ایسے شخص کی مغفرت ہونے کی کوئی شکل ہے؟ ایسے شخص کی بعد القتل رہائی کی کوشش کرنا اور مدد کرنا کہ کسی طرح چھوٹ جائے اور آئندہ ایسی حرکت سے باز آجائے شرعاً درست ہیکہ نہیں؟ جو فعل اس سے صادر ہوا ہے وہ مقتول کی بدعنوانیوں کو دیکھ کر ہوا ہے تو کیا ایسی شکل میں اس مدد کر نیوالے کو کوئی گناہ نہیں ہو گا؟
جواب
مقتول کے واسطے دعائے مغفرت، ایصال ثواب اور اس کے بچوں کی اعانت (امداد) دلجوئی کرتا رہے، زیادہ سے زیادہ ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار میں مشغول رہے۔ حق تعالی سے توقع ہے کہ وہ اس جرم عظیم میں تخفیف فرمائے گا۔ وہ اس مرحوم مقتول کو اپنے خزانہ غیب سے بہت کچھ دیکر راضی فرما دے تو کیا بعید ہے۔ جس طرح مقتول کے ساتھ ہمدردی کا حکم ہے، قاتل کے ساتھ بھی ہمدردی کا حکم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔