گناہ کبیرہ پر اصرار
سوال
کوئی شخص گناہ کبیرہ کا کئی مرتبہ مرتکب ہوا یا کبیرہ کو کبیرہ سمجھتا ہے استخفاف یا استحباب کبیرہ اس سے نہیں پایا جاتا ہر دفعہ بعد از ارتکاب توبہ واستغفار کر لیتا ہے، مگر شہوات نفسانی میں مغلوب ہو کر بارہا اس سے وہ کبیرہ سرزد ہو جاتا ہے اس کو مصر علی الکبیرہ کہا جاویگا اور اس سے اس کا نکاح ٹوٹ جاوے گا اور مصر علی الکبیرة شرعاً کس کو کہتے ہیں؟
جواب
(۱) جب تک گناہ کو حلال سمجھ کر یا به نیت استخفاف بالدین نہ کیا جاوے تو اس سے شرعاً ایمان سلب نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں شخص مذکور مؤمن ہے اور اس کا نکاح بھی نہیں ٹوٹا ”والكبيرة لا تخرج العبد المؤمن من الايمان ولا تدخله في الكفر قال التفتازاني تحته ومجرد الاقدام على الكبيرة لغلبة شهوة اوحمية اوانفة اوکسل خصوصا اذا اقترن به خوف العقاب ورجاء العفو والعزم على التوبة لا ينافيه…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔