برادری کی جماعت کی مخالفت کا حکم
سوال
جو جماعت علماء دین اور ان کے کسی شرعی فیصلہ کو لا پرواہی سے نظر انداز کرے اور لوگوں میں افتراق وانشقاق پیدا کرے۔ افتراء پرداز۔ اتہام طراز ہو اس سے شرعاً ترک موالات کرنا ضروری ہے یا نہیں اور جو ان باتوں کے ثابت ہونے کے بعد بھی اس جماعت کا ساتھی رہے وہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کا مخالف سمجھا جائے گا یا نہیں؟
جواب
جو شخص یا جماعت بلا وجہ شرعی علماء کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرے اور اختلاف پیدا کرے اور بہتان باندھے اس کو اولاً نرمی سے مسئلہ اور اس کی حیثیت کو سمجھانا چاہیے، اگر باز آوے توبہ کرلے تو بہتر ہے ورنہ با اثر لوگوں سے اس پر زور دیا جائے تب بھی نہ مانے تو ترک تعلقات کی سزادی جائے اور اس کے خلاف شرع کام میں شرکت واعانت بہر حال ممنوع ہے دارالاسلام نہ ہونے کی وجہ سے شرعی حدود نافذ کرنے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔