الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گناہ کی توبہ خدا کے سامنے ہو یا چودھریوں کے

سوال

زید سے ایک گناہ سرزد ہوا اس پر لوگوں نے اس سے قطع تعلق کر دیا بعد ازاں زید نے ایک معتبر عالم کے سامنے توبہ کی اور اپنے فعل پر نادم ہوا اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی۔ لیکن چودھری لوگ مذاق اڑانے کے لئے کہتے ہیں کہ برادری سے معافی مانگے تو برادری میں اور ہنگامہ پیدا ہوا اور لوگوں کو چودھری منع کرتے ہیں کہ اس سے میل جول نہ کریں۔ جبکہ وہ توبہ کر چکا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

اگر برادری کا گناہ نہیں کیا تو برادری یا چودھریوں سے معافی مانگنا ضروری نہیں۔ چودھریوں کا مطالبہ غلط ہے۔ خدائے پاک سے سچے دل سے نادم ہو کر معافی مانگنا ضروری ہے۔ برادری نے اگر قطع تعلق اس لئے کیا ہے کہ اصلاح ہو جائے اور اب برادری کو ظن غالب حاصل ہو گیا کہ زید کی اصلاح ہو گئی اور وہ واقعی نادم ہے سچی توبہ کر چکا ہے آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ توبہ کے آثار (ندامت و اصلاح)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو