نا جائز اولاد کو سماج میں جگہ دینا
سوال
ہمارے یہاں قصبہ سیا نہ ضلع بلند شہر میں ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی گزارتی تھی۔ اس اثناء میں آج سے قریب پچیس سال قبل اپنے شوہر کو چھوڑ کر ایک دوسرے شخص کے ساتھ نا جائز طریقہ کے ساتھ چلی گئی اور گھر سے فرار ہونے کے بعد اس شخص کے ساتھ بغیر طلاق اور بغیر نکاح کے رہنے لگی جس کے بطن سے دولڑکے اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں جبکہ دونوں لڑکے اور لڑکیاں اب بالغ ہیں اور قریب دس سال پہلے اس شخص کا انتقال ہو چکا ہے جس سے یہ چار بچے پیدا ہو چکے ہیں۔ اب ان بچوں کا سر پرست کوئی نہیں ہے۔
جواب
ان بچوں نے تو کوئی جرم نہیں کیا ان کو سماج میں جگہ دے کر ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا جائے جس سے ان کی اچھی طرح تعلیم و تربیت ہو اور اس عورت کو اس کی نالائق اور کمینہ حرکات سے توبہ کرا کے اس کی بقیہ زندگی کو شریعت کے موافق بنانے کی کوشش کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔