الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیبت کی چند صورتوں کا حکم

سوال

غیبت کی چند صورتیں یہ ہیں: مظلوم اپنے ظالم کے ظلم کو بیان کرے لوگوں کو نقصان سے بچانے کے لئے اس قسم کی باتیں کہنا کہ مثلاً فلاں مرد کے پیغام نکاح کو منظور نہ کرنا کیونکہ شرابی ہے یا جواری ہے، فلاں تاجر سے سودامت خریدنا کیوں کہ فریبی ہے کم تولتا ہے، یا فلاں کو قرض مت دینا کیونکہ دھندہ ہے یا فلاں طبیب سے علاج مت کرانا کیونکہ نیم حکیم ہے سند یافتہ نہیں ہے، یا فلاں کاریگر سے کام مت کرانا کیونکہ اناڑی ہے فلاں پیر سے مرید مت ہونا کیونکہ بدعتی ہے، احقر سمجھتا ہے کہ یہ سب صورتیں جائز بلکہ دوسروں کو نقصان سے بچانے والی…

جواب

(الف) آپ کا خیال صحیح ہے مگر قدر ضرورت سے تجاوز نہ کیا جائے، اگر کہیں بغیر بیان عیب، نقصان و مضرت سے تحفظ ہو سکے مثلاً اتنی بات کافی ہو جائے کہ فلاں پیغام نکاح کو منظور کرنا اچھا نہیں تو پھر اس کے شرابی جواری وغیرہ ہونے کی صراحت بھی نہ کی جائے،ضرورت پیش آئے تو کم سے کم بیان پر کفایت کی جائے، یہی حال دیگر امور کا ہے۔ (ب)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو