امام کے قریب اہل علم وفہم کو کھڑا ہونا چاہئے
سوال
امام کے پیچھے علم دار بینا کھڑا ہونا چاہئے یا نا بینا جاہل؟ سوال: اندرون مسجد کے نمازی سنت بھی پڑھ رہے ہوں سلام کرنا مسنون ہے یا نہیں؟ دروازہ پر سلام کر کے داخل ہونا اور سلام کر کے نکلنا کیسا ہے؟ سوال: کوئی مقتدی اپنے امام کے ساتھ گالی گلوچ کر کے اغلام بازی کی تہمت لگائے اور پھر اس کے پیچھے نماز پڑھے تو کیا اس کی نماز ہو گئی؟ ايضاً: حاسد، متکبر، تعصبی نمازی کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ سوال: اسلام میں جو چھوٹی بڑی افضل و کمتر قوم کی بنائے مخاصمت پیدا کرے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) سب مقتدی امام کے پیچھے ہی کھڑے ہوتے ہیں البتہ امام کے قریب تو ایسے لوگ کھڑے ہوں جو علم رکھتے ہوں تا کہ اگر لقمہ دینے یا کسی اور اصلاح نماز کی ضرورت پیش آئے تو سہولت رہے۔ (۲) جب اندرون مسجد نماز میں مشغول ہوں تو سلام نہ کیا جائے، بیرون مسجد اگر دروازہ کے قریب اگر لوگ فارغ ہوں تو ان کو سلام کر لیا جائے، مسجد سے باہر نکل کر جب اپنے راستہ پر جائیں تب بھی سلام کر لیا کریں، تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔