الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خواب پر حکم

سوال

چند روز پہلے یہاں کے نیک بخت آدمی نے خواب میں دیکھا کہ اس کی غیر شادی شدہ لڑکی کے گھر میں ایک بچہ ہے (جس کے بارے میں موضع کی مسجد کے امام صاحب نے افواہ مچائی تھی، کہ اس نے نکاح کر لیا ہے، اور فرضی گواہ کا نام بتایا تھا، مگر گواہ کے انکار کی وجہ سے نکاح باطل ثابت ہوا اور اس مشہور مدرسہ دارالعلوم دیو بند سے فتوی حاصل کر لیا گیا) اس فتوی کے بعد یہ خواب دیکھا اور والد نے غصہ میں آ کر اس بچہ کو چیر دیا، اور مار ڈالا، مگر آن کی آن میں وہ بچہ زندہ ہو گیا، اور جیسا تھا ویسا ہو گیا، اس خواب کے بعد وہ بیچارہ بے حد پریشان ہے؟

جواب

خواب پر فتوی نہیں دیا جاتا ہے تاہم جو فتویٰ آپ نے منگایا ہے وہ بھیجئے اس کے ساتھ سوال بھی ہونا چاہئے جس پر فتوی دیا گیا ہے، تب کچھ معلوم ہو سکے گا، خواب کا حکم یہ ہے کہ جب کوئی پریشان خواب نظر آئے بائیں طرف تھوک دیا جائے، اور لا حول ولاقوة الا بالله پڑھ لیا جائے، اور دعا کر لی جائے کہ یا اللہ پریشان خواب اور اسکے برے اثر سے محفوظ رکھ۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو