الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خواب میں آنحضرت ﷺ کے جسم اطہر پر زخم دیکھنا

سوال

ایک آدمی اپنی تقریر میں یہ کہتا ہے کہ ایک بزرگ نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا تو جسم پر زخم تھے، اور بسترہ لیکر ہندوستان کو اور راجستھان کو آ رہے تھے، دریافت کیا تو فرمایا کہ امت کا فکر ہے، ہندوستان میں اور راجستھان میں زیادہ بگاڑ ہو رہا ہے، زخم جو ہیں امت کے غم ہیں، کیا یہ باتیں قرآن وحدیث سے لگاؤ کھاتی ہیں؟ راقم کا یہ عقیدہ ضرور ہے کہ حضور ﷺ کی قبر میں نامہ اعمال ہفتہ وار پیش ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کے متعلق جواب عنایت فرمائیں، ایسی تقریر پر خاموشی برتنا یا تنبیہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

خواب میں اس قسم کی چیز دیکھنے میں کیا اشکال ہے؟ امت کا غم اور بداعمالیوں سے قلق بدن پر زخم کی صورت میں نظر آنا کچھ بعید نہیں ہے یہ صورت مثالیہ ہے نہ کہ عینیہ امت کے اعمال کا پیش ہونا روایت میں موجود ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو