والدین کے حقوق
سوال
(۱) والدین کے حقوق کوئی اولاد پر بھی ہیں کہ نہیں؟ (۲) اولاد کے یہ حقوق وجوبی ہیں یا صرف احسان کے درجہ میں ہیں؟ (۳) بعض لوگ والدین پر تین حقوق بتاتے ہیں (الف) پیدا کرنا (ب) پال پوس کر بڑا کرنا،(ج) شادی کرنا، اس میں کسی قسم کے جزئیات کو نہیں معائنہ کیا، صرف یہی تینوں حقوق ہیں، اور بغیر جزئیات کے تسلیم کئے یہ کافی ہوں گے؟ (۴) اگر والدین اولاد کے حقوق ادا نہ کرے تو ان سے باز پرس ہوگی یا نہیں؟ (۵) اس صورت میں بھی اولاد کے حقوق لازم ہوں گے کہ نہیں؟
جواب
۱،۲،۳ والدین اپنی اولاد کی تربیت جسمانی تو طبعی محبت کی بنا پر کرتے ہی ہیں اپنے اپنے طرز پر جانور بھی اپنے بچوں کو پالتے ہیں، مگر انسانی بچوں کا حق اس سے زیادہ ہے، جب بچہ پیدا ہوا تو اس کو نہلا کر داہنے کان میں اذان بائیں کان میں اقامت کہی جائے بولنا سیکھے تو کلمہ شہادت اور آیات توحید اس کو سکھائیں، نماز سکھائیں سات برس کا ہو جائے تو نماز کی تاکید کرائیں رہن سہن میں تمیز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔