والدین کی خدمت مقدم ہے یا تعلیم کی تکمیل
سوال
میں نے حفظ کیا، پھر کچھ عربی پڑھی، ارادہ تھا کہ درس نظامی کی تکمیل کر کے کچھ دین کی خدمت کر جاؤں، لیکن میرے والدین کی انتہائی کوشش ہے کہ پڑھنا ترک کر کے کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جاؤں جس سے دنیاوی زندگی بنے، تو کیا میں والدین کو ناراض کر کے اور عارضی طور پر ترک تعلق کر کے کسی دوسری جگہ جا کر درس نظامی کی تکمیل میں مصروف ہو جاؤں تو یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر والدین آپ کی خدمت واعانت کے محتاج ہیں، ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں اور آپ ہی ان کی خدمت پوری کر سکتے ہیں، تو آپ کو اس کی اجازت نہیں کہ ان سے ترک تعلق کر کے کہیں چلے جائیں، اور درس نظامی کی تکمیل کریں، بلکہ ان کی خدمت ہی کرتے رہیں، اور فارغ وقت میں دینی علم خواہ اردو میں ہی ہو حاصل بھی کر سکتے ہیں، اگر وہ آپ کی خدمت کے محتاج نہیں تو اس کا حکم دوسرا ہے، پھر بھی ایسی روش…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔