الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

والدین کی مرضی کے خلاف علم دین کیلئے سفر کرنا

سوال

مسمی محمد مکرم علم دین حاصل کرنے کیلئے پردیس میں جاتا ہے اور اس کے والدین چاہتے ہیں کہ محمد مکرم ہم کو چھوڑ کر پردیس میں نہ رہے بلکہ ہمارے پاس رہ کر کچھ کمانے کی کوشش کرے، تا کہ ہم لوگ آخری وقت میں سہولت کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، لیکن محمد مکرم بالکل نہیں چاہتا ہے کہ وہ حصول علم کو چھوڑ کر دنیاوی کام میں لگ کر اپنی زندگی برباد کرے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ صرف اس کے والدین نہیں ساری دنیا ناراض اور سب ان سے جدائی حاصل کر لیں، جب بھی وہ حصول علم دین میں ذرا سستی نہیں کرتا ہے، لہذا دریافت طلب یہ ہے کہ علم دین حاصل کرنا…

جواب

بقدر ضرورت علم دین حاصل کرنا فرض عین ہے لیکن تکمیل نصاب فرض عین نہیں ہے اگر والدین حاجت مند ہیں، کما نہیں سکتے تو انکی خدمت حسب وسعت لڑکے پر لازم ہے، مکان پر رہ کر آہستہ آہستہ کچھ علم بھی حاصل کرتا رہے اور ان کی خدمت بھی کرتا رہے، ان کو ناراض نہ کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو