ولادت کے وقت بیوی کی مدد کرنا
سوال
میاں نور محمد صاحب پیش امام ساکن قصبہ بندھ ضلع راولپنڈی نے اپنی حاملہ بیوی کی نصف شب وقت تولید جنین امداد کی رات کی سردی و دیگر اعذار کے باعث قابلہ کو نہ بلا سکا دونوں میاں بیوی نے اس کام کو انجام دیا لڑکے کو غسل دینے کے بعد کانوں میں اذان دیدی۔ یہ قصہ رفتہ رفتہ شہرت پکڑ گیا آخر الامر میاں صاحب کو چند دیہاتی علماء کرام نے اس فعل کے ارتکاب پر دباؤ ڈالا کہ تم نے خلاف شرع نجاست وغیرہ میں ہاتھ ڈالے توبہ کرو اور گلے میں چادر ڈال کر توبہ پر مجبور کئے گئے۔ میاں صاحب نے مسجد کی عام مجلس میں توبہ کی۔
جواب
شرعاً یہ فعل حرام اور نا جائز نہیں جو لوگ اس کو ناجائز کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ایسے فعل کی بناء پر امام کے ساتھ ایسا تذلیل کا معاملہ کرنا سخت حماقت ہے جہالت ہے بلکہ معصیت ہے ان دیہاتیوں اور دیہاتی علماء کو توبہ اور امام سے معافی مانگنا واجب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔