الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ساس کی خدمت

سوال

زید کی بیوی زچگی کی وجہ سے میکہ گئی ہے۔ زید نے کہا کہ میری ماں کی خدمت کرو۔ ہندہ نے کہا کہ خدمت کے لئے دوسری عورت رکھ لو، میں خدمت نہیں کروں گی۔ اس سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب

شرعاً ہندہ کے ذمہ شوہر کی ماں کی خدمت واجب نہیں لیکن اخلاقی طور پر اس کا خیال کرنا چاہئے کہ وہ اس کے شوہر کی ماں ہے تو اپنی ماں کی طرح اس کو بھی راحت پہونچانے کا خیال رکھے۔ اور شوہر کی اطاعت کرے۔ آخر جب ہندہ کو ضرورت پیش آتی ہے تو شوہر کی ماں اس کی خدمت کرتی ہے۔ اس طرح آپس کے تعلقات خوشگوار رہتے ہیں اور مکان آبادرہتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو