الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مال حرام سے قرض ادا کرنا

سوال

زید شراب کی تجارت اور اس کا کاروبار کرتا ہے، جو کچھ روپیہ پیسہ ساز وسامان اس کے پاس ہے سب کچھ اسی تجارت کی آمدنی سے ہے، اب بتوفیق الہی اپنے اس فعل سے تائب ہو کر اس سے الگ ہونا چاہتا ہے لیکن اشکال یہ ہے کہ گذران کی صورت کیا ہوگی،لہذا معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اگر کسی سے بلاسودی قرض لے کر کوئی دوسرا کاروبار کرے، جس سے اس کے بال بچوں کا گذران ہو اور قرض کو اس شراب کی تجارت کے روپئے سے ادا کرے تو کیا یہ صحیح ہوگا، جیسا کہ فتاوی عبدالحی میں اس مسئلہ میں استقراض کی شکل کو جائز لکھا ہے، لیکن اس صورت میں یہ اشکال ہے کہ قرض…

جواب

جب کوئی شخص مختلف آدمیوں کا مال غصب کر کے خلط کرے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک خلط کیوجہ سے وہ مالک ہو جاتا ہے، اور ضمان لازم ہوگا، لہذا اس مال سے قرض ادا کرنے کی بھی گنجائش ہے، البتہ اتنی مقدار کا ضمان حسب تحریر امداد الفتاوی ادا کرنا لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو