مال حرام سے تجارت
سوال
اگر کسی شخص نے حرام مال کمایا، اس سے اس کی اولاد پرورش پائی، اس میں سے بعض عالم ہوئے، انہوں نے مال کی یا اسی طرح دوسرے بھائیوں نے تجارت کی، تو کیا ان کا کمانا بھی مال حرام کہلائے گا؟ اور نسلاً بعد نسل اس کا شیوع ہوتا رہے گا؟
جواب
جس قدر مال بطریق حرام کمایا اس کی واپسی لازم ہے، اگر وہ شخص موجود نہ ہو جس سے مثلاً مال حرام (مثلاً رشوت یا غصب) لیا ہو، مر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دیا جائے، ورثاء بھی موجود نہ ہوں یا کوشش کے باوجود ان کا علم نہ ہو سکے تو غریبوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جائے، لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا تو اسکو حرام نہ کہا جائیگا، کذا فی رد المحتار۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔