الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مال حرام کا مصرف

سوال

زید نے تمام عمر گناہ کئے اور نماز بھی نہیں پڑھی اور سود پر روپیہ دے کر سود کا روپیہ اپنے خوردونوش میں خرچ کیا اور اکٹھا بھی کیا مگر اپنی آخری عمر میں زید توبہ کر کے استغفار کر کے روزہ نماز کا بالکل پابند ہو گیا ہے، مگر وہ اپنے اس روپیہ کو مسجد میں استعمال کرنا چاہتا ہے، آیا اس کے اس روپیہ کو مسجد کے خرچ میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس صورت میں خرچ کیا جاوے؟

جواب

جو مال روپیہ حرام طریقہ سے کمایا گیا ہے، اسکو مسجد میں صرف کرنا جائز نہیں ہے وہ روپیہ اصل مالک کو واپس کرنا چاہئے، وہ نہ ہو تو اس کے ورثہ کو دیدیں، وہ بھی نہ ہوں یا ان کا علم نہ ہو تو اصل مالک کی طرف سے غرباء کو صدقہ کر دیا جائے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو