حرام آمدنی دینی کاموں میں خرچ کرنا
سوال
بعض حضرات حرام کمائی سے مکان بنوا کر نزول برکت کیلئے قرآن خوانی کراتے ہیں، اور وہ اس حرام کمائی سے قربانی عقیقہ اور بزرگان دین کے ایصال ثواب یا عوام میت کے ایصال ثواب پر خرچ کرتے ہیں، اس سے ثواب پہنچتا ہے یا نہیں؟
جواب
اگر حلال کمائی میں کچھ حرام کمائی ملائی گئی ہے تو اس سے بنا ہوا مکان استعمال کرنا درست ہے اور ایسی کمائی کو دین کے کاموں میں خرچ کرنا بھی درست ہے لیکن حرام کمائی کا گناہ مستقل ہے، اور جس قدر مال حرام کمائی سے کمایا ہے اس کا اصل مالک کو واپس کرنا لازم ہے، وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو دے دیا جائے، اور وہ باقی نہ ہو تو غرباء پر اس نیت سے صدقہ کر دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کے وبال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔