الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مال یتیم میں تجارت

سوال

والد کے انتقال کے بعد والدہ دوسرا نکاح کر لیتی ہے تو اس صورت میں مال یتیم بچوں کو ملنا چاہئے یا ان بچوں کی والدہ کو مال یتیم سے کوئی دوسرا پیشہ مثلاً تجارت وغیرہ کی جاسکتی ہے یا نہیں۔ اور مال یتیم کے منافع بچوں کو ملنا چاہئے یا تجارت کرنے والے کو۔

جواب

جو مال بچوں کے والد کا تھا انتقال والد کے بعد اٹھواں حصہ اس میں سے بچوں کی والدہ کا ہے۔ اس کو اختیار ہے اپنا حصہ جو چاہے کرے بعد جو حصہ بچوں کا ہے نیز جو مال براہ راست یتیموں کی ملک ہے خواہ ان کو والد نے اپنی حیات میں دیا ہو یا کسی اور طرح ان کو ملا ہو اس میں والدہ کو مالکانہ تصرف کا حق نہیں اس کو محفوظ رکھا جائے اس میں تجارت بھی نہ کی جائے مباداً خسارہ ہو جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو