الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چوڑی پہنانے کا پیشہ

سوال

بہت سے مرد چوڑیاں پہنانے کا کام کرتے ہیں یہ کمائی حلال ہے یا حرام جائز ہے یا نا جائز ہے؟ (۲) بہت سی عورتیں بے پردہ ہو کر باہر دیہات میں چوڑیاں پہناتی ہیں ان کیلئے کیا حکم ہے علاوہ ازیں ایک عورت جسکا خاوند مر گیا ہو اور لڑکے اس کے جوان با روز گار ہوں اور پھر بھی وہ عورت چوڑیاں بے پردگی سے پہناوے تو اسکی ذمہ داری کس کے ذمہ ہے بالفرض اگر وہ لڑ کے اسکو نان و نفقہ نہ دیں تو کیا حکم ہے اور اگر اس کو کھانا کپڑا وغیرہ دیں اور بے پردگی سے منع کریں تو کیا حکم ہے؟

جواب

(۱) چوڑیوں کی قیمت حلال ہے۔ نامحرم کے ہاتھ وغیرہ کو مس کرنا نا جائز ہے۔ (۲) یہ تجارت اور اجرت جائز ہے چاہے لڑکے نان نفقہ دیں چاہے نہ دیں بے پردگی منع ہے۔ جس کی ذمہ داری خود اس بے پرد پر ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو