چوڑیاں پہنانے کا پیشہ
سوال
زید کے یہاں چوڑی پہنانے کا رواج ہے عموماً عورتیں چوڑیاں پہنایا کرتی ہیں زید چونکہ تنہا امور خانہ داری پورا نہیں کر سکتا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس پیشہ کے ذریعہ زید کا ہاتھ بٹائے کیا زید کی یہ خواہش از روئے شرع جائز ہے یا نہیں ویسے صورت مذکورہ میں جو عام طور پر ہندوستان کی ایک قوم کے ساتھ مخصوص ہے جو کہ اوروں کے لئے جائز بظاہر معلوم نہیں ہوتا ہے یہ کیسا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم مرد کے لئے اور بچوں کے لئے استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
عورت اگر پردہ میں رہے اور کسی نامحرم کے سامنے نہ آئے اور عورتوں کو چوڑیاں پہنا کر روپیہ حاصل کرے تو شرعاً وہ روپیہ درست ہے کسی ایک قوم کے ساتھ اس پیشہ کے خاص ہو جانے کی وجہ سے اس کو دوسروں کے لئے ناجائز نہیں کہا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔