جمعہ کے دن بعد عصر درود شریف کی تعیین وترغیب
سوال
نماز جمعہ کے بعد جہراً درود شریف پڑھنا اور دیگر محلوں میں بھی ایسا کیا ہے اجتماعی ہیئت کے ساتھ جہراً درود شریف تسبیح و تہلیل اور تکبیر کے متعلق، المنہاج الواضح یعنی راہ سنت ص ۱۱۶ سے لے کر ص ۱۲۳ میں جو فیصلہ مذکور ہے اس بارے میں ایک دیو بندی شخص جو عقائد اعمال کے لحاظ سے اہل سنت کے مسلک پر ہیں وہ فاضل دیو بند بھی ہیں مجھے شامی کے حوالہ سے بتاتے ہیں کہ جمعہ کے روز درود شریف جہراً واجتماعاً بدعت نہیں چونکہ وہ مولوی صاحب مسافری کی حالت میں میرے یہاں آئے تھے اس لئے کتاب نہ ملنے کی وجہ سے نہ دکھلا سکے کیا واقعہ ایسا ہی…
جواب
درود شریف سراً و جہراً دونوں طرح درست و ثواب باعث ترقی درجات اور موجب قرب ہے۔ جمعہ کے روز خصوصیت سے اس کی تاکید ہے، لیکن اجتماعی حیثیت سے جہراً پڑھنا حدیث وفقہ سے ثابت نہیں ہے۔ حالانکہ صحابہ کرام پانچوں وقت مسجد میں جمع ہوتے تھے۔ اوقات نماز کے علاوہ بھی بکثرت حضر و سفر میں جمع ہونے کا موقع ملتا تھا۔ مگر کہیں ثابت نہیں کہ اجتماعاً جہراً پڑھنے کا معمول رہا ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔