اسم مبارک سن کر درود شریف
سوال
زید کہتا ہے کہ خطبہ کے علاوہ جب یہ آیت إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبي الخ پڑھی جاوے تو درود شریف پڑھنا زبان سے واجب ہے۔ عمر کہتا ہے کہ نہیں، ایسے صیغے امر کے قرآن شریف میں بہت ہیں۔ واركعوا مع الراكعين اتو الزكواة و غيره ان سے یہ مراد نہیں کہ جب یہ آیتیں پڑھی جاویں جب ہی رکوع یا زکوۃ واجب ہوتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب وقت آوے۔ اسی طرح جب حضور پرنور ﷺ کا نام آئے جب درود واجب ہوتا ہے۔ صرف آیت کے پڑھنے سے درود شریف واجب نہیں ہوتا۔ پس شریعت کا کیا حکم ہے اور کس کا قول معتبر ہے؟ بینوا توجروا۔
جواب
اس صیغہ امر کی وجہ سے عمر میں ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا فرض ہے بالاتفاق۔ اور جب اس آیت کو سنے یا کسی اور طرح اسم مبارک کو سنے تو اس وقت واجب ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا اسم مبارک سنکر درود شریف نہ پڑھنے پر احادیث میں وعید آئی ہے۔ اسی کو امام طحاوی نے اختیار کیا ہے۔ اور امام کرخی کے نزدیک اگر ایک مجلس میں متعدد مرتبہ ذکر آئے تو ہر مرتبہ واجب نہیں۔ کذافی در مختار۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔