بالغ کا ختنہ
سوال
زید نابالغ ہی تھا کہ اس کا باپ مر گیا۔ بوجہ سر پرست نہ ہونے کے ختنہ نہ ہو سکا۔ اب زید کی عمر ۲۵ سال کی ہے، چمڑا سخت ہو گیا ہے، مگر زید کہتا ہے کہ اب میں مثل مختون کے ہوں۔ ایسی صورت میں ختنہ کرانا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
ختنه سنت مؤکدہ ہے اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ بلا عذر شدید بالغ سے بھی ساقط نہیں ہوتا۔ البتہ چونکہ زید مثل مختون کے ہے نیز چمڑا بھی سخت ہو گیا ہے۔ اسلئے بضرورت ساقط ہو سکتا ہے۔ والاصل ان الختان سنة كما جاء في الخبر وهو من شعائر الاسلام (الدر المختار على هامش ردالمحتار ص ۲۵۶ ج ۵)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔