ختنہ کا وقت اور حکم
سوال
قرآن مجید میں کسی جگہ لکھا ہے کہ مسلمان ختنہ کرادیں ختنہ کرانے کے متعلق کون سی حدیث ہے۔ کیا ختنہ کرانا سنت ہے یا فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ یا مستحب لڑکے کی ختنہ کتنی عمر تک کرانا چاہیئے اگر دس سال تک ختنہ نہ ہو اس کی نماز درست ہے یا نہیں۔جس شخص کا ختنہ نہ ہوا ہو کیا وہ مسلمان نہیں جس بالغ شخص کا ختنہ نہ ہوا ہو اس کے ہاتھ کا کھانا۔ پانی مکروہ ہے یا حرام ہے اور کیا وہ امامت نہیں کراسکتا۔
جواب
ختنہ سنت ہے اور شعائر میں سے ہے بلوغ سے پہلے پہلے جب بچہ میں تحمل کی طاقت ہو ختنہ کرا دیا جائے۔ حضرت امام اعظم سے اس کے وقت کے متعلق کوئی روایت منقول نہیں۔ بعض فقہاء نے سات سال بعض نے نو سال کا وقت تجویز کیا ہے۔ کذا فی مجمع الانہر و طحطاوی بغیر ختنہ کے اکثر طہارت ناقص رہتی ہے اس لئے ایسے شخص کو امام نہیں بنانا چاہے اس کے ہاتھ کا کھانا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔