ملازمت کے لئے ڈاکٹری معائنہ
سوال
زید میونسپلٹی میں فن تجوید و قرآن شریف اور ضروریات دین کے لئے یا اور کسی شعبہ میں ملازم ہے اور وہ شخص عالم بھی ہے، اور کسی قسم کا مریض نہیں، میونسپلٹی کی طرف سے اس کو ڈاکٹری معائنہ کا حکم دیا، نو سال ملازمت کرنے کے بعد ڈاکٹری معائنہ کی صورت یہ ہے کہ ڈاکٹر انسان کے بدن کو سر سے پیر تک ننگا کر کے بدن کا معائنہ کرتا ہے، حتی کہ ذکر کو ہاتھ میں لیتا ہے، اور دباتا بھی ہے، تا کہ سوزاک و آتشک معلوم کر سکے، اور دبر میں بھی انگلی تک مارتا ہے، تاکہ بواسیر معلوم کرلے، تو کیا ملازمت کے لئے یہ ڈاکٹری کرنا کرانا جائز ہو سکتا ہے…
جواب
اس طور پر ڈاکٹری معائنہ کرانا اور کرنا نا جائز ہے، جس حصہ بدن کو چھپانا فرض ہے اس کو اس غرض کے لئے کھولنا اور نامحرم کو دکھانا اور اس کا ہاتھ لگوانا ہرگز ہرگز جائز نہیں، اگر ملازمت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے تو ایسی شرط کو قبول کرنا بھی جائز نہیں، ” و ینظر الرجل الى الرجل الا العورة وهي مابين السرة والركبة ثم حكم العورة في الركبة اخف منه في الفخذوفى الفخذاخف منه فى السوأة حتى…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔