پانی کو عبور کرتے ہوئے رانیں کھولنا
سوال
جب پانی عبور کرنا ہو اور پانی گھٹنوں سے اوپر تک ہو تو تہہ بند کو رانوں تک اٹھانا اور گھٹنے اور ران کھولنا اس طرح پانی عبور کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ناف سے گھٹنوں تک عورت ہے کسی کے سامنے اس حصہ بدن کو کھولنا جائز نہیں، نہ نماز میں نہ خارج نماز میں، اس حکم میں ہر مرد عالم ہو یا غیر عالم سب کا حکم ایک ہے جو شخص گھٹنے کھولے اس کو نرمی سے منع کیا جاوے، جو ران کھولے اس کو سختی سے منع کیا جائے، البتہ اگر گھٹنے اور رانیں پانی میں چھپ جائیں اور کپڑا بالکل پانی کے قریب رہے، کہ بدن کسی کو نظر نہ آئے تو اس طرح عبور کرنا شرعاً درست ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔