مونچھیں منڈانا
سوال
مونچھوں کو استرے سے منڈانے کو علامہ شامی نے اپنی کتاب شامی میں جو جائز لکھا ہے وہ عبارت اور صفحہ وجلد صاف صاف مع ترجمہ اعراب لگا کر بھیجیں اور زیادہ بہتر ہے کہ کوئی مستند حدیث کی عبارت بھی لکھیں اس کے بارے میں یہاں پر فتنہ عظیم برپا ہے ایک مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ بدعت ہے اور دلیل پیش کرتے ہیں کہ درمختار میں ہے۔ حلق الشارب بدعة (مونچھ منڈانا بدعت ہے) حدیث میں ہے احفوا الشوارب (مونچھیں پست کراؤ)
جواب
حلق الشارب بدعة وقيل سنة در مختار برحاشيه رد المحتار المعروف بالشامی ص ۳۵۸ ج ۵۔ مونچھ کا مونڈانا بدعت ہے اور کہا گیا ہے کہ سنت ہے۔ یہ دونوں قول ایک ہی کتاب میں ایک ہی جگہ موجود ہیں حدیث شریف میں حلق کا لفظ نہیں۔ جس کے معنی مونڈنے کے ہیں۔ بلکہ لفظ ”جزوا“ آیا ہے جس کی معنی خوب کاٹنے کے ہیں۔ ایک روایت میں ”احفوا“ آیا ہے اس کے معنی بھی یہی ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔