الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کہنی سے اوپر آستین کا کرتا، حضور ﷺ کا عمومی لباس

سوال

آج کل بعض ہمارے اسلامی بھائی لباس ایسا استعمال کرتے ہیں، جو کہنیوں سے اوپر ہوتا ہے، اور سر پر بغیر ٹوپی یا کپڑے کے سر بازار چلتے پھرتے ہیں، اور بعض ایسالباس استعمال کرتے ہیں، جو اس زمانہ کے صلحاء کے خلاف لباس ہے، کیا اس طرح کا لباس استعمال کرنا شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس کیسا تھا، اور آپ کے اصحاب کا لباس کس طرح تھا، بیان فرماویں، تو مہربانی ہوگی؟

جواب

جو لباس فساق یا کفار کا شعار ہو اس کے استعمال کی اجازت نہیں ہے صلحاء کا لباس استعمال کرنا چاہئے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عامہ لنگی استعمال فرمایا کرتے تھے، وہاں پاجامہ کا رواج کم تھا، پاجامہ خریدنا اور پسند فرمانا بھی احادیث سے ثابت ہے، کرتا پوری آستینوں کا ہوتا تھا، ٹوپی عامتہ سر پر چپکی اور گول ہوتی تھی، اس کے علاوہ بھی منقول ہے عمامہ کی بھی عادت شریفہ تھی، چادر کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو