آستین کا لمبا ہونا
سوال
عموماً نیا قسم کے لوگ کرتے کی آستین لمبی بنوا کر اوپر کی طرف موڑ لیتے ہیں، انکے حرص میں مذہبی قسم کے آدمی بھی اگر آستین لمبی بنوا کر موڑ لیں تو یہ مناسب ہے کہ نہیں؟ اور اسراف بیجا ہے کہ نہیں؟ اور ایسا کرنے والے کے متعلق شرع شریف میں کیا حکم ہے؟
جواب
لمبی آستین تو عموماً عرب میں رائج تھیں، اور اس کو شرفاء کا لباس تصور کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے فقہا نے نماز شروع کرتے وقت آستین سے ہاتھوں کو ظاہر کرنا مستحب لکھا ہے، اور سجدہ کرتے وقت گرم زمین پر آستین کا زائد حصہ پیشانی کے نیچے رکھ کر اس پر سجدہ کرنا بھی منقول ہے، اگر ضرورت نہ ہو تو بیکار آستین کیوں زائد کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔