الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نسبندی

سوال

آج کل خاندانی منصوبہ بندی کا ہر جگہ بہت چرچا چل رہا ہے، جسکے بارے میں حکومت کی طرف سے ممالک اسلامیہ مثلاً مصر اور جاوا کے مفتیوں کے فتوے شائع کئے جارہے ہیں، نیز ہندوستان کے بعض لوگ مثلاً جامع مسجد دہلی کے امام صاحب کا فتوی بھی نظر سے گذرا، ان سب ہی حضرات نے آج کی نسبندی کو عزل کے اوپر قیاس کر کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، جبکہ عزل شریعت میں جائز ہے، تو پھر نسبندی کیوں حرام ہے؟

جواب

آج کل خاندانی منصوبہ بندی کی اسکیم بڑی قوت کے ساتھ چلائی جارہی ہے، اور نسبندی کیلئے ترغیبی پہلو اختیار کئے جارہے ہیں، اس پر دارالافتاء دارالعلوم دیو بند سے دو رسالے مدلل شائع کئے جاچکے ہیں، ایک ”برتھ کنٹرول کا شرعی حکم“، دوم ”فیملی پلاننگ کا شرعی حکم“، اس کو ملاحظہ کریں: بیماری میں علاج کی خاطر قطع عضو کی بھی اجازت ہے، جیسا کہ فتاوی عالمگیری کے کتاب الکراہت میں مذکور ہے، اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو