برتھ کنٹرول
سوال
برتھ کنٹرول جائز ہے کہ نہیں، اگر جائز نہیں جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا فتح الملہم کی اس عبارت سے برتھ کنٹرول ثابت نہیں ہوتا، ” و الفرار من حصول الولديكون لاسباب منها خشية علوق الزوجة الامة لئلا يصير الولد رقيقاً اوخشية دخول الضرر على الولد المرضع اذا كانت الموطوءة مرضعة او فراراً من كثرة العيال اذا كان الرجل مقلاً فيرغب عن قلة الولد لئلا يتضرر بتحصيل الكسب وكل ذالك لا يغنى شيئاً“ (فتح الملهم، ج ۲ / ص ۵۱۳ /)
جواب
جبکہ فتح الملہم کی عبارت منقولہ میں اسباب عزل کو نقل کرنے کے بعد صراحت کردی ہے، ”وكل ذلك لا يغنى شيئاً“ پھر اس سوال کا کیا محل باقی رہ گیا، فتح الملہم کی اس عبارت سے برتھ کنٹرول ثابت نہیں ہوتا، عبارت احیاء اگر نقل کی جاتی تو اس کے متعلق بھی ممکن ہے کہ کچھ جواباً عرض کیا جاتا علاوہ ازیں امام غزالی شافعی المذہب ہیں، فروعی مسائل میں حنفیہ پر ان کی عبارت حجت و قابل استدلال نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔