بچہ دانی نکلوانا
سوال
میرے گھر میں جب حمل قرار پاتا ہے تو بہت الجھن ہوتی ہے، اور سخت قسم کی تکلیف ہوتی ہے، اور جس قدر پیدائش کا زمانہ قریب آتا ہے، تکلیف بڑھتی جاتی ہے، پھر بچہ بھی ضائع ہو جاتا ہے، ڈاکٹر علاج کرتے کرتے عاجز آچکے ہیں، کوئی صورت نفع کی نہیں ہوتی، ولادت کے بعد بہت مدت تک علاج جاری رہتا ہے، تب تکلیف دور ہو کر قوت آتی ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچہ دانی نکلواد یجئے، پھر یہ تکلیف نہ ہوگی، براہ کرم فرمائیے کہ شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب
اگر استقرار حمل اور ولادت کی وجہ سے نا قابل برداشت تکلیف ہوتی ہے اور خطرناک امراض پیدا ہو جاتے ہیں، جن سے جان جانے کا قوی مظنہ ہوتا ہے، تو تحفظ کی اور صورتیں بھی ہیں، مثلاً عزل کر لیا جائے، یعنی جماع کے وقت منی علیحدہ نکالی جائے، فرج کے اندر انزال نہ کیا جائے، یا مانع حمل دوا استعمال کی جائے، جس سے علوق نہ ہونے پائے، یا بعد علوق حمل ضائع کر دے یا شوہر دوسری شادی کرلے موجودہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔