الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضبط تولید کے دلائل جواز کا جائزہ

سوال

زید کا قول ہے کہ ضبط تولید (نسبندی) جائز ہے اس پر چند دلیلیں ہیں، دلیل اول یہ ہے کہ چونکہ قتل اولاد کی ممانعت میں داخل نہیں ہے، اس لئے کہ قتل کا اطلاق ذی روح کو مارنے پر ہوتا ہے، اور نسبندی میں استقرار حمل سے روکنا ہے، نہ کہ قتل سے، لہذا نسبندی جائز ہے دلیل ثانی ضبط تولید عزل کی طرح جائز ہے، دلیل ثالث جبکہ اعضاء بننے سے پہلے اسقاط حمل جائز ہے تو نسبندی بدرجہ اولی جائز ہوگی، چونکہ اس میں اسقاط حمل نہیں ہے، بلکہ استقرار حمل سے روکنا ہے، لہذا اگر نسبندی نا جائز وحرام ہے، تو جواب بحوالہ کتب معتبرہ عنایت کیا جائے؟

جواب

(الف) قتل اولاد بھی ممنوع ہے، اور قتل اولاد جس نظریہ اور مقصد کے لئے تھی وہ مقصد اور نظریہ بھی مذموم و غیر مشروع ہے، نسبندی میں قتل اولا دنہیں لیکن مقصد و نظریہ تو وہی ہے، جس کیلئے یہ صورت اختیار کی جارہی ہے، وہ مقصد نظریہ کیا ہے ”املاق “ یا ” خشية املاق“ یہ نظریہ خود اسلامی اصول و نصوص کے خلاف ہے، ”نحن نرزقهم واياكم“ ”الاوان نفسا لن تموت حتى تستكمل رزقها أن الرزق ليطلب العبد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو