بوجہ کمزوری مانع حمل دوا کا استعمال
سوال
ایک عورت ہے اب وہ اس قابل نہیں رہی کہ حمل کا بوجھ برداشت کر سکے اس وقت وہ حاملہ ہے، ابتدائی مہینہ ہے، مختلف قسم کی ادویات دی جا رہی ہیں، پھر بھی کمزوری برابر موجود ہے، ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کیا جائے، ورنہ آئندہ جان کے لئے خطرہ ہے، ایسی حالت میں از روئے شرع کیا حکم ہے؟
جواب
کمزوری کی وجہ سے اگر حمل کا تحمل نہ ہو تو بطور علاج ایسی تدبیر اختیار کرنا کہ قوت آنے تک استقرار حمل نہ ہو درست ہے، شوہر کو بھی ہمبستری سے احتیاط چاہئے، خواہش کا غلبہ ہو تو روزے رکھے لیکن آپریشن وغیرہ کے ذریعہ تولید کی صلاحیت کو ختم کر دینا جائز نہیں سخت معصیت ہے، ہرگز اس کا ارادہ نہ کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔