اسقاط حمل
سوال
میں ایک ڈاکٹر ہوں، میرے پاس ایک لڑکی تین ماہ کا حمل گروانے کے لئے آئی، اور کہا کہ حمل نہیں گراؤ گے تو میں خود کشی کرلوں گی، میری شادی ہونے والی ہے، ایسی صورت میں حمل گرایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ میں اس سے قبل چھ حمل گرا چکا ہوں لیکن اب خدا سے ڈرتا ہوں، کوئی صحیح صورت تحریر فرمائیں کہ میں گنہ گار نہ ہوں؟
جواب
جس لڑکی نے آ کر کہا کہ مجھے ناجائز حمل ہے، میری شادی ابھی نہیں ہوئی، اس کو ساقط کر دیا جائے تو اگر وہ حمل ایسا ہے کہ اس میں ابھی جان نہیں پڑی تو اس کو ساقط کر دینا درست ہے، جان پڑنے کے بعد ساقط نہیں کیا جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔