الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مانع حمل دوا استعمال کرنا

سوال

ایک شخص کی بیوی کثرت اولاد کی وجہ سے اور ایام حمل کی طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفات کی وجہ سے چاہتی ہے کہ مانع حمل دوا استعمال کرے اور اس کا شوہر بھی رضا مند ہے کیا ایسی صورت میں ایسی دوا استعمال کرنا جائز ہے؟ نیز چار اولا د زندہ ہے اور اس کے بعد سے پانچ اولاد ہوئی سب کا انتقال ہو گیا؟

جواب

جائز ہے، لیکن عسرت اور تنگ دستی کے خیال کو دل سے نکالدینا چاہئے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدگمانی ہیکہ وہ اولاد کو رزق نہیں دینگے بلکہ وہ سب کو رزق دیتے ہیں، دوسری وجوہ بیماری وغیرہ کی بنا پر شوہر کی اجازت سے ایسا کرنا درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو