الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خنزیر کی چربی سے جانور کا علاج

سوال

ایک شخص نے اپنے جھوٹے کو بھنگی سے خنزیر کی چربی ملوائی بوجہ چوٹ لگنے کے لیکن چوٹ ایسی آئی تھی کہ زخم نہیں ہوا تھا، اور یہ کام مشورہ سے کیا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس جھوٹے کا گوشت ذبح کے بعد جائز ہے، یا نہیں؟ نیز جس جگہ چربی لگائی گئی تھی اس پر ہاتھ لگا کر مسلمان جھوٹے کو نہلا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) خنزیر نجس العین ہے اسکی ہرشئی نا پاک اسکا استعمال ناجائز ہے،اگر اس جھوٹے کا کوئی علاج نہیں صرف خنزیر کی چربی ہی علاج ہے، تو ایسی صورت میں اسکا لگوانا درست ہے، جب اس کو ملکر نہلایا گیا اور چربی وہاں باقی نہیں رہی تو وہ جگہ بھی پاک ہو گئی اب اس جگہ ہاتھ لگانا درست ہے، چربی کی موجودگی میں اس جگہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ کی ناپاکی کا حکم دیا جائیگا، بعد ذبح اس کا گوشت بلا تامل حلال…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · اردو