خنزیر کی چربی والا تیل دوا کے طور پر
سوال
ایک تیل تیار کرنا ہے جو کہ بہت سی بیماریوں میں کام آئے گا، جس میں پندرہ قسم کی یونانی دوائیاں شامل ہیں، جس میں ہر ایک کلو سرسوں کے تیل میں ۲ گرام خنزیر کی چربی ملانا ہے کیا شرعی حکم سے چربی ملائی جاسکتی ہے یا نہیں بغیر ملائے تیل میں کمزوری باقی رہتی ہے؟
جواب
خنزیر نجس العین ہے، اسکی چربی کا استعمال کرنا بھی حرام ہے، ایسا تیل بھی نجس ہوگا، اگر کوئی ایسے مرض میں مبتلا ہو کہ تجربہ کار دیندار طبیب کی تشخیص کے مطابق اس کی دوا اور کوئی نہ ہو بلکہ اسی میں شفاء منحصر ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں استعمال کی گنجائش ہوگی مگر نا پا کی کا حکم پھر بھی باقی رہے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔