الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آنکھوں کی خرید وفروخت برائے علاج

سوال

یہاں ایک ڈاکٹر ہے وہ دوسروں کی آنکھیں لیکر خراب شدہ آنکھیں نکال کر اس میں لگا دیتا ہے، دوسری آنکھیں حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں، بعض غریب لوگ جب آخری وقت پر پہنچتے ہیں، تو ان کی اجازت سے آنکھیں نکال کر فروخت کر دی جاتی ہیں جو ہزار دو ہزار میں فروخت ہو جاتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ حالت صحت میں آنکھیں فروخت ہو جاتی ہیں، تو اس صورت میں زید کے لئے یہ صورت ہو سکتی ہے، کہ وہ اپنی خراب آنکھیں نکلوا کر دوسری صحیح آنکھیں لگوالے؟

جواب

زید کے لئے اس طرح دوسروں کی آنکھیں استعمال کرنا جائز نہیں، زندہ آدمی کی آنکھوں کی بیع نا جائز ہے، مردہ کی بھی نا جائز ہے، ”الادمى مكرم شرعاً وان كان كافراً فايراد العقد عليه وابتذاله به والحاقه بالجمادات اذ لال له اى وهو غير جائز وبعضه في حكمه وصرح في فتح القدير ببطلانه الى قوله لم يجز كسر عظام ميت کافر، شامی، ج ۴، ص ۱۴۵ / الانتفاع باجزاء الأدمى لم يجز اھ فتاوى عالمگیری، ج ۵ ص…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو