بول فیل برائے علاج
سوال
ایک حکیم صاحب مسلمان ہیں نماز کے پابند ہیں لیکن داڑھی نہیں رکھتے ہیں، ایک عورت کا علاج پانچ مہینہ سے کر رہے ہیں عورت کو سترہ سال سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے، بہت علاج کرایا ہے، ان حکیم صاحب کی دوائی سے حیض میں تھوڑا فائدہ ہے اب پانچ ماہ علاج کے بعد حکیم صاحب نے اس مرتبہ جو دوائی دی اس میں بول فیل ہاتھی نرکا پیشاب ہمبستری کے وقت پینے کے لئے دیا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مریضوں کو جو استسقاء کے مرض میں مبتلا تھے، اونٹ کا دودھ اور پیشاب بتلایا تھا، اور ٹھیک ہو گئے تھے، تو میں یہ…
جواب
محض اولاد کا نہ ہونا ایسی بیماری نہیں جس کے لئے بول فیل پینے کی اجازت دی جاسکے، جو کچھ اب تک ہو چکا ہے، اس سے توبہ واستغفار کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔