الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مردار مچھلی کا کھانا کیوں جائز ہے؟

سوال

مردار مچھلی کا استعمال کیوں صحیح ہے؟ بقیہ جانور جو حلال ہیں ان کا استعمال کیوں جائز نہیں؟

جواب

مردار مچھلی کو حدیث پاک میں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے أُحِلَّتْ لنا الميتتان، السمك والجراد نیز مچھلی میں خون نہیں اور دیگر جانوروں میں خون ہوتا ہے۔ اور ذبح کرنے سے میں نکل جاتا ہے اور خود مر جانے سے بدن ہی میں رہ جاتا ہے۔ اور یہ خون ناپاک ہے۔ اور مچھلی میں جو خون جیسی چیز ہوتی ہے وہ رطوبت ہوتی ہے خون نہیں ہوتا اور جو مچھلی پانی میں مرکر الٹی تیرنے لگے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو