بلی کو مارنا
سوال
اگر کوئی شخص لکڑی سے بلی کو مار دے اور وہ مر جائے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ اگر کوئی کفارہ ہو تو مطلع فرمائیں؟
جواب
بلی کو بلاوجہ ستانا گناہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک عورت نے بلی کو باندھ کر رکھا اور کھانے کو نہیں دیا اور اس کی وجہ سے اس عورت کو عذاب ہوا۔ اسی طرح ہر جانور کا حکم ہے کسی کو بھی بلاوجہ ستانا جائز نہیں گناہ ہے۔ لیکن اگر بلی اذیت دے تو اس کو مار ڈالنا بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔