الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مضطر کے لئے خنزیر کا کھانا

سوال

کیا حالت اضطراری میں اگر کسی نے زبردستی خنزیر کا گوشت کھلا دیا کہ اگر نہ کھاؤ گے تو قتل کر دیئے جاؤ گے۔ تو ایسی صورت میں مسلمان رخصت پر عمل کر سکتا ہے۔ عمل رخصت پر افضل ہے یا عزیمت پر افضل ہے اور آیت ” انما حرم علیکم الميتة الآیة“کا مطلب کیا ہے۔ اور کیا لفظ سور کہنے سے ایمان چلا جاتا ہے؟

جواب

یہ افسوسناک صورت حال کم علمی و کم فہمی اور دین سے بے تعلقی کی بناء پر ہے۔ اس لفظ کے کہنے سے ہرگز ایمان ضائع نہیں ہوتا ہے، نہ رزق بند ہوگا، البتہ اس کا کھانا حرام ہے۔ ہاں اگر کوئی مضطر ہو کہ اس کے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہ ہو اور بغیر اس کے کھائے جان نہ بچتی ہو تو جان بچانے کے لئے اتنی مقدار کی اجازت ہے اور یہ اجازت قرآن پاک سے ثابت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو