الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مسلم کے ساتھ کھانا پینا

سوال

(۱) میرے کمرے میں تین اشخاص ہیں، جس میں، میں اکیلا مسلم ہوں اور دونوں ساتھی غیر مسلم ہیں، جس میں سے ایک ہریجن چمار (سیوڈیل کاسٹ) ہے دوسرا بیک وارڈ ہے، میری طبیعت ان کے ساتھ کھانا کھانے وغیرہ کی بالکل نہیں کرتی اور میں اپنا سب کچھ الگ کرتا ہوں، مگر پھر بھی وہ میرے برتن وغیرہ استعمال کرتے رہتے ہیں، اس بارے میں کیا کروں، کیا مسئلہ ہے الگ رہنے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے؟ (۲) اگر میں کہیں کام وغیرہ سے ڈاک گھر وغیرہ جاتا ہوں یا کوئی دعوت دیتا ہے، اور S.

جواب

(۱، ۲، ۳) کوئی شخص اپنی ذات اور پیشہ کے اعتبار سے چمار ہو یا کچھ اور، جب وہ نجاست سے ملوث نہیں، بدن اور کپڑے صاف ہیں، ہاتھ دھو کر کھانا پکاتا ہے، یا کھاتا ہے، اور اس کھانے میں کوئی حرام چیز نہیں ہے، تو اس کو نجس نہیں کہا جائے گا، وہ اگر برتن استعمال کرتا ہے، پھر آپ دھو لیتے ہیں یا وہی دھو کر دیدیتا ہے، تو وہ برتن بھی قابل استعمال ہے، مجبوراً کبھی موقع ہو جائے تو کھانا بھی ساتھ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو