الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفار ومشرکین کے ساتھ کھانا پینا

سوال

مشرکین و کفار سے ربط ضبط رکھنا ان کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ فرقان حمید میں فرماتا ہے ”انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ھذا“ (پارہ ۱۰، سورۃ توبہ) مشرکین و کفار پاکی وناپاکی سے بالکل بے خبر ہیں، نہ طریق غسل سے واقف نہ پابند اسلام سے؟

جواب

بلاضرورت کفار سے ربط و ضبط و تعلقات رکھنا منع ہے۔ ”یا ایھا الذین آمنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ھزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء“ ان کے ساتھ بلاضرورت تو یہ کھانا مکروہ ہے، البتہ اگر عمر میں ایک دو مرتبہ کہیں ایسا ابتلاء ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں، بشرطیکہ ناپاکی کا علم نہ ہو، اگر معلوم ہو جائے کہ یہ کھانا پانی ناپاک ہے، تو پھر اس کا کھانا پینا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو